Thursday, June 3, 2021

امرود کے پتوں کی چائے 10 امراض کے علاج میں کیسے مددگار ہے؟ جانیں

 

امرود کے پتوں کی چائے 10 امراض کے علاج میں کیسے مددگار ہے؟ جانیں


امرود کا شمار ایسے پھلوں میں ہوتا ہے جس کی کم قیمت کے سبب اکثر لوگ اس کے فوائد کا ادراک بہتر طور پر نہیں کر سکتے ہیں۔ جب کہ امرود فوائد کے اعتبار سے حیرت انگیز فائدوں کا حامل پھل ہے اس پھل میں وٹامن سی بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے- اس کے علاوہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ اجزا موجود ہوتے ہیں جو کہ جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں یہ وزن کم کرنے میں ، جسم میں سے شوگر لیول کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے- مگر پھل کے ان فوائد کے ساتھ ساتھ امرود کے درخت کے پتے بھی بہت زیادہ مفید ہوتے ہیں اور ان سے بننے والی چائے بڑی بڑی بیماریوں کے علاج کے لیے مفید ہوتی ہے-

1: ڈائریا کے لیے
ڈائریا کا سبب ایک خاص قسم کا بیکٹیریا ہوتا ہے جو نظام انہضام کے عمل کو متاثر کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیٹ میں شدید درد ، پانی والے جلاب اور الٹی کی شکایت ہوتی ہے- اس کے علاج کے لیے امرود کے درخت کے نئے پتوں کو ایک کپ گرم پانی میں ڈال کر کچھ دیر چھوڑ دیں اور اس کے بعد اس کو چھان کر پی لیں -یہ چائے ڈائریا پیدا کرنے والے جراثیموں کا خاتمہ کرتی ہے اور ہاضمے کے عمل کو بہتر بناتی ہے-

2: ذیابطیس کے مریضوں کے لیے
امرود کے درختوں کے پتوں کی چائے جاپان میں خصوصی طور پر ایک صحت بخش مشروب کے طور پر پہچانی جاتی ہے ۔ خاص طور پر ذیابطیس کے مریض اس کا خصوصی طور پر استعمال کرتے ہیں کیوں کہ اس سے جسم میں شوگر لیول کنٹرول ہوتا ہے -

3:وزن کم کرنے کے لیے
اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو امرود کے پتوں کی چائے ہر کھانے کے بعد اپنی غذا میں شامل کر لیں یہ چائے چکنائی اور شو گر کو جسم میں جمع ہونے سے روکتی ہے اور جسم میں موجود چربی کو پگھلا کر وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے-
 


4: کینسر سے بچاتی ہے
امرود کی چائے منہ کے کینسر سے ، پروسٹیٹ کے کینسر سے اور بریسٹ کینسر کے خطرے سے انسان کو محفوظ رکھتی ہے- اس کے اندر اینٹی آکسیڈنٹ اجزا بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو زہریلے مادوں کو خارج کرتے ہیں اور نئے صحت مند خلیات کے بننے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں-

5: کھانسی نزلہ زکام کے لیے
اس چائے میں بڑی مقدار میں وٹامن سی اور آئرن موجود ہوتا ہے جو کہ نزلہ زکام اور کھانسی میں آرام دیتا ہے اور بلغم کو خارج کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے-

6: ایکنی کا خاتمہ کرتا ہے
امرود کے پتوں کو پیس کر چہرے پر لگانے سے جلد کو ایکنی سے نجات ملتی ہے- اور اس کی چائے پینے سے خون میں سے چکنائی کی شرح میں کمی واقع ہوتی ہے جس سے جلد کھلی کھلی اور صاف ہو جاتی ہے-

7: بالوں کو گرنے سے روکتا ہے
اگر آپ بالوں کے گرنے سے پریشان ہیں اور بال کمزور ہو رہے ہیں تو امرود کے پتے اس کے لیے ایک بہترین علاج ہیں امرود کے پتوں کو پانی میں ابال لیں اور اس پانی کو ٹھنڈے ہونے کے بعد ان کا مساج سر پر بالوں کی جڑوں میں کریں- کچھ ہی دنوں میں نہ صرف بالوں کا گرنا ختم ہو جائے گا بلکہ اس سے بال صحت مند بھی ہوں گے-
 


8: دانتوں کے لیے مفید
امردو کے پتوں سے پھولے ہوئے مسوڑھے دوبارہ سے صحیح حالت میں آجاتے ہیں- اس کے علاوہ دانت کے درد کی صورت میں بھی ان پتوں کو پیس کر لگانے سے درد میں نہ صرف آرام ملتا ہے بلکہ سانس کی بو سے بھی نجات ملتی ہے-

9: پرسکون نیند کے لیے
امرود کے پتوں کی چائے اعصاب کو پر سکون کر کے اچھی اور خوشگوار نیند کا باعث بنتے ہیں اس کے لیۓ اس کو سونے سے قبل پینے کا مشورہ ماہرین دیتے ہیں-

10: قوت مدافعت میں اضافہ
امرود کے پتوں کی چائے انسان کی قوت مدافعت کو بہتر بناتی ہے اور مختلف بیماریوں سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتی ہے جس کی وجہ سے روز مرہ اس کا استعمال صحت کے لیے بہت مفید ہے-

یہ آپ کو اس چیز سے محفوظ نہیں رکھ سکتا، وٹامن ڈی کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف

 


 
بغیر کسی شک و شبہہ کے گزشتہ سال وٹامن ڈی کے خاص فائدے سے متعلق بہت زیادہ بات کی گئی- تاہم نئی تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ وٹامن ڈی کورونا لاحق ہونے کے خطرات میں کمی کے حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا-
 
کورونا وبا کے آغاز میں اکثر ماہرین اس بات پر زور دیتے دکھائی دیتے تھے کہ کورونا سے محفوظ رہنے کے لیے وٹامن ڈی کا استعمال لازمی کیا جائے- جس کی وجہ یہ تھی متعدد تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایسے افراد جن میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے ان میں کورونا کی علامات ظاہر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے-
 
تاہم اب جریدے PLOS Medicine میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی آپ کو کورونا وائرس کے انفیکشن سے محفوظ نہیں رکھ سکتا-
 
 
کینیڈا کے شہر Quebec میں واقع مک گل یونیورسٹی کے محققین نے جینیاتی اقسام پر توجہ مرکوز کی جو وٹامن ڈی کی بڑھتی ہوئی سطح سے وابستہ ہیں- کچھ لوگوں کی جینز میں پہلے ہی وٹامن ڈی کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے- تاہم، اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ماحولیاتی عوامل جیسے کہ خوراک اس سطح کو متاثر کر سکتی ہے۔
 
یہ تحقیق کیسے کی گئی؟
محققین نے اس ریسرچ کے دوران 14000 ایسے افراد کی جینز کا مطالعہ کیا جو کورونا وائرس کا شکار تھے- اور اس ڈیٹا کا موازنہ 12 لاکھ سے زائد ایسے افراد سے کیا گیا جو کورونا جیسی موذی بیماری سے محفوظ تھے-
 
محققین نے کیا پایا؟
اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک جین کی قسم ایسی بھی ہے جس پر مشتمل افراد میں وٹامن ڈی سطح زیادہ ہونے کے امکانات ہوتے ہیں- لیکن اس کے باوجود وہ افراد بھی کورونا سے محفوظ نہیں رہتے- ان افراد میں بھی اس بیماری کے لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے-
 
 
بدقسمتی سے، اس مطالعے سے پائے جانے والے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اضافی وٹامن ڈی لینا جہاں مدافعتی نظام ، ہڈیوں کی صحت اور مزاج کے لئے فائدہ مند ہے وہیں دوسری طرف یہ کورونا کے خلاف جنگ لڑنے میں مددگار ثابت نہیں ہوتا۔

Wednesday, June 2, 2021

کیا ٹھنڈے پانی سے نہانا آپ کے جسم و دماغ کو بدل دیتا ہے؟

 

کیا آپ صرف ایک منٹ میں کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جو آپ کے تناؤ کو کم کریں، آپ کو چاق و چوبند کر دے اور آپ کی قوت مدافعت کو بڑھا دے؟ لیکن اس کے لیے حوصلہ چاہیے اور اگر آپ پرعزم ہیں تو کسی ندی، دریا یا سمندر کے کنارے کھڑے ہو جائیں جب اس کا پانی ٹھنڈا ہو۔
 
اگر آپ اتنے خوش قسمت نہیں ہیں تو کسی ٹھنڈے پانی کے پول، باتھ روم شاور یا نلکے کے پاس ہی چلے جائیں۔ لمبی سانس لیں، اپنی قوت ارادی کو یکجا کریں اور خود کو ٹھنڈے پانی کے سپرد کر دیں۔ اپنے جسم کو یک دم سے ٹھنڈا پانی محسوس کرنے دیں۔
 
لیکن جب گرم پانی سے نہانا کی سہولت میسر ہے تو پھر اتنا کشت کیوں اٹھائیں؟
 
تو جناب ٹھنڈے پانی میں تیراکی کرنا یا ٹھنڈے پانی سے نہانا مقبولیت پکڑتا جا رہا ہے کیونکہ اس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ آپ کے جسم اور دماغ کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔
 
لہذا سائنسدان انسانی جسم اور دماغ پر ٹھنڈے پانی سے نہانے کے اثرات پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اور اس تحقیق سے ابتک یہ بات سامنے آئے ہیں کہ اس کے انسانی جسم و دماغ پر حیران کن فوائد مرتب ہوتے ہیں۔
 
تحقیق کے اس شعبے میں ممکنہ طور پر انسان کی مختلف جسمانی و ذہنی حالتوں کے لیے بہت کچھ نیا ہے جیسا کہ بلند فشار خون کے مسئلہ سے لے کر ذیابطیس کی دوسری اقسام کے علاج تک اور ڈپریشن سے انسانی جسم میں سوزش اور اشتعال کے مسئلے تک کا ممکنہ علاج موجود ہے۔
 
چلیں ٹھنڈے پانی سے نہانے کی سائنس کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیوں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ آپ کے موڈ میں بہتری لاتا ہے، آپ کے دماغ کو فائدہ پہنچاتا ہے اور آپ کی دل اور قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔
 
ٹھنڈا پانی جسم میں تناؤ پیدا کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے جسم میں تناؤ کا ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جو آپ کو خطرے کا احساس ہونے پر خودکار طور پر کام کرتا ہے تاکہ آپ کے جسم کو جگائے رکھے۔ یہ قدرت ہے ایک انتہائی بہترین اور مؤثر نظام ہے جس میں ایک ہی وقت میں پیر کی انگلیوں سے لے کر دماغ تک پورا جسم ردعمل دیتا ہے۔
 
ٹھنڈے پانی سے نہانے کے فوائد کی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی جسم ٹھنڈے پانی کو ایک خطرہ سمجھتا ہے اور اس کے خلاف جسم میں تناؤ کا ابتدائی ردعمل دیتا ہے۔ یہ آپ کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے، آپ کی دل کی دھڑکن تیز کرتا ہے اور آپ کے اندر بجلی دوڑتی ہے۔
 
آپ کی خون کی نالیوں میں خون تیزی سے دوڑنا شروع کر دیتا ہے اور چند ہی لمحوں میں پورے جسم میں خون کا بہاؤ آپ کے کچھ جسمانی اعضا کو سائز میں دگنا کر دیتا ہے۔ یہ تمام عمل آپ کے جسم کا قدرتی ردعمل ہے جو اسے زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔
 
لیکن ہمیں تو آج تک بتایا گیا تھا کہ تناؤ ایک بری چیز ہے تو پھر ہم ہر صبح ٹھنڈے پانی سے نہانے کے لیے انسانی جسم کو اس حالت میں کیوں ڈال رہے ہیں جس میں زندہ رہنے کے لیے قدرتی ردعمل کے نتیجے میں جسمانی تناؤ پیدا ہو جبکہ اس کی جگہ ہم ایک گرما گرم چائے کی پیالی کا لطف بھی اٹھا سکتے ہیں۔
 
 
چونکہ زیادہ تناؤ یقیناً انسانی صحت یا جسم کے لیے اچھا نہیں ہے لیکن ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ تھوڑا سا تناؤ انسانی جسم کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
 
بس تھوڑا سا
حالیہ برسوں میں مختلف تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختصر دورانیہ کا تناؤ انسانی صحت کے لیے اچھا ہو سکتا ہے۔ اس بات کا سائنسدانوں نے عوامی سطح پر خطاب کرنے سے لے کر دباؤ میں ذہنی طور پر ریاضی کے سوالات حل کرنے تک کے حالات میں جائزہ لیا ہے اور اس سے یہ بات درست ثابت ہوتی ہے۔
 
جیسا کہ ٹھنڈے پانی سے نہانا انسانی جسم میں مختصر دورانیے کا تناؤ پیدا کرنے کا ایک پراثر طریقہ ہے اور اس پر تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اس کے فوائد ہیں۔
 
اس وقت سائنسدان اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ پانی کتنا ٹھنڈا ہونا چاہیے تاکہ جسم میں مطلوبہ تناؤ پیدا کیا جا سکے جو انسانی جسم کی قوت مدافعت سے لے کر انسانی رگوں میں جمے چکنائی کے ہارمونز میں تبدیکی پیدا کر سکے۔ فی الحال یہ تحقیق کی ایک نئی شاخ ہے لیکن اب تک اس حوالے سے خوش کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
 
آپ کو کتنی دیر ٹھنڈے پانی میں رکنا ہے؟
اس بارے میں شواہد بڑھتے جا رہے ہیں کہ سردیوں میں تیراکی کرنے والے افراد میں کچھ بیماریاں کم ہوتی ہے جیسا کہ سانس کی نالی میں انفکیشن وغیرہ۔ اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ انھیں ان انفیکشنز کا کم سامنا کرنا پڑتا ہے یا انھیں معمولی انفکیشن ہوتا ہے۔
 
 
اس بارے میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ تیراکی نہیں بلکہ ٹھنڈا پانی ہے۔
 
موسم سرما کے دوران نیدرلینڈ میں کیے گئے ایک سائنسی مشاہدے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ایسے افراد جنھیں 60 دن تک ہر صبح 30 سیکنڈ تک ٹھنڈے پانی سے نہانے کا کہا گیا تھا وہ ان ٹھنڈے پانی سے نہ نہانے والے افراد کے مقابلے میں 30 فیصد کم دن بیمار ہوئے۔
 
انگلینڈ کی یونیورسٹی آف پورسماؤتھ کے پروفیسر مائیک ٹپٹن اس بارے میں تحقیق کر رہے ہیں کہ جب انسانی جسم پر ٹھنڈا پانی پڑتا ہے تو اس وقت اس میں کیا تبدیلی رونما ہوتی ہیں اور اس کے انسانی ذہن اور جسم پر دور رس مثبت اثرات کیوں مرتب ہوتے ہیں۔
 
ان کا کہنا ہے کہ 'ہم تک ہم نے جو تحقیق کی ہے اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو لوگ ٹھنڈے پانی سے نہاتے ہیں یا اس میں تیراکی کرتے ہیں ان کی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ قوت مدافعت کی نظام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لمبے غوطے کے مقابلے میں مختصر دورانیے کے غوطے کے زیادہ فوائد ہیں۔‘
 
یہ بات ان کی لیے اچھی ہیں جو ٹھنڈے پانی میں نہانے یا تیراکی سے زیادہ لطف اندوز نہیں ہوتے۔
 
 
تاہم ماہرین نے خبردار بھی کیا ہے کہ 'اب تک کی تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فائدہ مند اثرات جلد کو ٹھنڈا کرنے کا نتیجہ ہوسکتے ہیں ، لیکن اگر آپ جسم کے گہرے ٹشوز کو ٹھنڈا ہونے کے لیے کافی دیر تک ٹھنڈے پانی میں رہتے ہیں تو ، یہ ہائپوتھرمیا کا باعث بن سکتا ہے ، جو نقصان دہ ہے۔'
 
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہےکہ پروفیسر ٹپٹن کے مطابق ٹھنڈے پانی میں مختصر دورانے کا غوطہ لگانا یا نہانا سے مراد دو منٹ یا 120 سکینڈز ہیں۔
 
ان کا کہنا ہے کہ ’یقینا یہ پر شخص کے لیے مختلف ہے لیکن ہم جو ایک عمومی مشورہ دیتے وہ یہ کہ اگر آپ اپنا سانس بحال رکھ سکتے ہیں تو آپ کم از کم 90 سکینڈ تک ٹھنڈے پانی میں رہیں۔‘
 
موڈ کو بہتر کرنا
ٹھنڈے پانی میں ڈبکی لگانے والوں یا نہانے والوں کے مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے جسم میں کیمیائی ردعمل کے نتیجہ میں ڈوپامائین، سیروٹائین اور بی اینڈورفین کیمائی مادوں کی تعداد میں اصافہ ہوا ہے۔

پسینہ زحمت نہیں رحمت ہے… اگر پسینہ نہ آئے تو آپ کے جسم کے ساتھ چند خطرناک چیزیں لازمی ہوں گی

 



 
یقیناً پسینہ آنا ایک پریشان کن بات ہوتی ہے اور انسان الجھن کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے نہ صرف آپ کے پاس بدبو آتی ہے بلکہ جراثیم بھی چپکے رہ سکتے ہیں- لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پسینہ آپ کے جسم کے لیے کتنا ضروری ہے اور اگر یہ نہ آئے تو کیا ہوگا؟ اگر نہیں تو آئیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں-
 
جلد سے نمی غائب
پسینہ ہماری جلد میں نمی قائم رکھنے کا باعث بنتا ہے اور اگر پسینہ نہ ہو تو ہماری جلد خشک ہوجائے گی اور اس میں نمی بحال رکھنے کے لیے اضافی دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی-عام طور پر پسینہ جراثیم کش اثرات پیدا کرتا ہے جو مسام کھولنے کا سبب بنتا ہے اور ہماری جلد کی صفائی ہوجاتی ہے- اسی لیے اگر پسینہ رک جائے تو ہماری جلد پر موجود جراثیم ہمیں نقصان پہنچاتے رہیں گے-
 
گردوں میں پتھری کا خطرہ
بعض تحقیق کے دوران یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پسینہ ایک ایسی ورزش ہے جو ہمارے جس سے سوڈیم کو باہر نکالتی ہے بصورت دیگر ہمارے گردوں میں پتھری کا خطرہ بڑھ جائے گا- اور اسی سوڈیم کے نکلنے کی وجہ سے دل کی بیماریوں کے لاحق ہونے کے خطرات میں بھی کمی آتی ہے-
 
گرم موسم میں جسم کے ٹھنڈا ہونے میں مشکل
پسینے کا بنیادی کام جسم کو ٹھنڈا کرنا ہوتا ہے- اگر پسینہ آنا بند ہوجائے تو آپ کو چکر آنے لگیں گے اور متلی کی شکایت کے علاوہ بہت زیادہ گرمی بھی محسوس ہوگی- اس کی علامت یہ ہے کہ آپ کو پٹھوں کے درد کی شکایت بھی پیدا ہوتی ہے جبکہ ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بھی لاحق ہوجاتا ہے- اور اس سے زندگی کو بھی خطرات لاحق ہوجاتے ہیں-
 
آپ کے اندر کیا چل رہا ہے؟
آپ کے جسم کا پسینہ ہی آپ کو یہ سمجھنے کے لیے تیار کرتا ہے کہ ابھی آپ خوفزدہ ہیں یا کسی الجھن کا شکار٬ آپ کو ٹھنڈک محسوس ہورہی ہے یا گرمی٬ یا پھر آپ کچھ مصالحہ دار کھا رہے ہیں یا گرم- پسینہ ہی ہمارے جسم کو اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ اندر کیا چل رہا ہے- یعنی اگر پسینہ نہ آئے تو آپ کا جسم کسی بھی چیز کے احساس سے عاری رہے گا-
 
فیصلہ سازی میں کم وقت لگتا ہے
ایک تحقیق کے مطابق پسینہ آنے کے بعد لوگ فیصلہ سازی میں زیادہ وقت لیتے ہیں اور غلط یا رسکی فیصلے لیتے ہیں جس کی وجہ اینزائٹی ہے- البتہ پسینہ نہ آئے تو اینزائٹی کے باوجود لوگوں کو فیصلہ کرنے میں کم وقت لگتا ہے اور عام طور پر ان کے فیصلے صحیح ثابت ہوتے ہیں- تاہم یہ ایک پسینہ نہ آنے کا فائدہ ہے-

نیند میں کمی یا زیادتی۔۔۔ 6 ایسی خاموش عادات اور علامات جن کا تعلق دل کی تباہی سے ہے


دل کی بیماریاں عام طور پر جان لیوا ثابت ہوتی ہیں اور اگر جان بچ بھی جائے تو بھی انسانی صحت کے لئے رسکی ہوتی ہیں اس لئے ہمیشہ دل کی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہئیے۔ اکثر دورہ پڑنے یا دل کو دیگر امراض لاحق ہونے سے قبل کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں لیکن کچھ خاموش علامتیں ضرور ہوتی ہیں جن پر اگر بر وقت غور کرلیا جائے تو ان سے بچا جاسکتا ہے۔ اس آرٹیکل میں آپ کو کچھ ایسی علامتوں اور عادتوں کے بارے میں بتایا جائے گا جو بظاہر بہت معمولی لیکن حقیقت میں جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں

 

1- اینٹی بایئوٹکس کا زیادہ استعمال

اینٹی بایئوٹکس کا زیادہ استعمال دل کو متاثر کرنے کا سبب بنتا ہے۔ بہت زیادہ عرصے تک اینٹی بایئوٹکس دواؤں کا مستقل استعمال دل کی بیماریوں کو بڑھاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان دواؤں کا استعمال ترک کردیں بلکہ ان کو صرف ڈاکٹر کی ہدایات پر ہی کھائیں تو بہتر ہے۔

 

2- حد سے زیادہ ذمہ داری اٹھانا

کیا آپ کو اپنے کندھوں پر بہت زیادہ ذمہ داری محسوس ہوتی ہے؟ یا آپ غیر معمولی طور پر دوسروں سے سنجیدہ مزاج رکھتے ہیں تو آپ کو یقینی طور پر اپنے مزاج میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ دیگر ممالک میں اس مسئلے کے حل کے لئے “لافٹر تھیراپیز“ بھی کروائی جاتی ہیں۔ سنجیدہ مزاج اور اسٹریس دل پر دباؤبڑھاتا ہے اس لئے بہت زیادہ سنجیدہ رہنے سے گریز کریں۔ دوستوں کے ساتھ ہفتے میں ایک بار باہر ضرور جائی یا کوئی کامیڈی فلم دیکھیں تا کہ اسٹریس لیول کم ہوسکے

 


3- زیادہ سونا یا کم سونا

انسومنیا یعنی نیند کی شدید کمی دل کے لئے شدید رسک ہے اگر ہفتے میں تین بار نیند کی کمی کا شکار ہوں تو اسے وارننگ سائن سمجھیں۔ اسی طرح اگر آپ 9 گھنٹوں سے زیادہ وقت کے لئے سونے کے عادی ہیں تو یہ عادت دل کی بیماری کا خطرہ 30 گنا بڑھا دہتی ہے۔ یہاں تک کے دوپہر میں قیلولہ کا عمل بھی خطرناک ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 58 فیصد خواتین جو دوپہر میں سونے کی عادی ہوتی ہیں ان میں موت کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

 

4- دانت صاف نہ کرنا

شاید سننے میں یہ عجیب لگے لیکن گندے دانتوں کا تعلق دل کی صحت سے بھی ہوتا ہے۔ دانتوں کی بری صحت بیکٹیریل انفیکشن بڑھاتی ہے اور اس سے شریانوں ی بیماری ہوسکتی ہے اس لئے سونے سے پہلے اور اٹھنے کے بعد دانتوں کو برش کریں اور ضرورت ہو تو ڈینٹسٹ سے بھی دانت صاف کروائیں

 

5- خوراک

اگر آپ سوچتے ہیں کہ دل کی بیماریوں کے لئے آپ کی عمر ابھی بہت کم ہے تو آپ کو مطالعہ کرنا چاہیئے کہ دل کے امراض اب کم عمر لوگوں حتٰی کے بچوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور ان کی بڑی وجہ خوراک میں بے اعتدالی ہے۔ بڑا گوشت، تمباکو اور الکوحول یا فاسٹ فوڈ کا زیادہ رجحان دل کی بیماریوں کی شرح میں اضافہ کررہا ہے

 

6- آنکھوں کے گرد ہالہ

اگر آپ کی آنکھوں کی پتلیوں کے اطراف سفید ہالہ نمودار ہورہا ہے تو یہ آپ کے جسم میں کولیسٹرول کی سطح بڑھنے کی طاقتور نشانی ہے۔ جسم میں کولیسٹرول یا چکنائی کی سطح میں اضافہ ہونا سیدھا دل کی بیماریوں کی طرف لے جاتا ہے اس لئے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں

 


Sunday, May 23, 2021

… وہ 5 فائدہ مند غذائیں جو آپ کی جان بھی لے سکتی ہیں اس کا زیادہ استعمال زہر کا کام بھی کرسکتا ہے


 


سپر فوڈ کی اصطلاح 20ویں صدی کے آغاز میں کیلے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی گئی تھی- سپر فوڈ ان غذاؤں کو کہا جاتا ہے جن میں بےپناہ طبی فوائد پائے جاتے ہوں- خاص طور پر ایسی غذائیں جن میں غذائی اجزا زیادہ ہوں اور کیلوریز کم- تاہم جہاں ایک جانب ان غذاؤں میں بہت زیادہ فوائد ہوتے ہیں وہی ان کا بہت زیادہ استعمال چند خطرناک نقصانات کا سبب بھی بن سکتا ہے-


 

سبز چائے

سبز چائے کا شمار دنیا کے سب سے صحت بخش مشروبات میں ہوتا ہے جس کی وجہ اس میں پائی جانے والی اینٹی اوکسیڈنٹ کی بھاری مقدار ہے- یہ نہ صرف کینسر کے خطرات کو کم کرتی ہے بلکہ دل کی بیماریوں سے بھی بچاتی ہے- اس کے علاوہ دماغی صحت کی بہتری کے حوالے سے بھی جانی جاتی ہے- لیکن بےشمار فوائد کے باوجود اس کا حد سے زیادہ استعمال آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے کیونکہ اس میں کیفین بھی پائی جاتی ہے- بہت زیادہ چائے پینے کی وجہ سے آپ کو سینے کی جلن اور سر درد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے- ماہرین کے مطابق ایک بالغ شخص کے لیے ایک دن میں 3 سے 5 چائے کے کپ کافی ہیں-


 


دارچینی

دارچینی کو اس بےپناہ طبی خصوصیات کے باعث ایک طاقتور غذا قرار دیا جاتا ہے- دارچینی دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے علاوہ جسم میں موجود سوزش اور بلڈ پریشر کو کنٹرول بھی کرتی ہے- لیکن جہاں ایک جانب یہ فائدہ مند ہے وہیں دوسری طرف اس کا زیادہ استعمال زہر کا کام بھی کرسکتا ہے کیونکہ اس میں coumarin بھی پایا جاتا ہے- coumarin ایسے افراد کے لیے خاص طور پر خطرناک ہے جنہیں جگر کے مسائل کا سامنا ہو کیونکہ اس کا زیادہ استعمال جگر کو تباہ کرسکتا ہے-


 


جائفل

جائفل ایک ایسا منفرد ذائقے کا حامل مصالحہ ہے جسے پڈنگ اور کیک کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے- صرف ذائقے کے لیے کم مقدار میں جائفل کو کھانے میں شامل کرنا صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے- لیکن جائفل کا بہت زیادہ استعمال myristicin نامی زہر کا سبب بن سکتا ہے- اور اس زہر کی وجہ سے آپ کو دل کے مسائل، متلی، چکر آنا اور درد کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے- ایک بار میں 10 گرام سے زیادہ جائفل نہیں کھانا چاہیے-


 


کافی

کافی ایک ایسا حیرت انگیز مشروب ہے جو اینٹی اوکسیڈینٹس کے علاوہ دیگر فائدہ مند اجزا سے بھی بھرپور ہوتا ہے- کافی پینا جگر کے مسائل اور شوگر لاحق ہونے کے خطرات میں کمی لاتا ہے- کافی میں کیفین پائی جاتی ہے اور ایک کپ کافی 80 سے 120 ملی گرام کیفین پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ 400 ملی گرام تک کیفین کا استعمال محفوظ قرار دیا جاتا ہے- لیکن اس سے زیادہ کیفین کا استعمال اعصابی نظام پر حاوی ہوسکتا ہے اور اس کے علاوہ بے خوابی، گھبراہٹ، چڑچڑاپن، پیٹ میں درد اور دل کی دھڑکن میں بےترتیبی کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے-


 


کلیجی

کلیجی ہمارے ہاں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے اور کھانی بھی چاہیے کیونکہ اس میں انتہائی غذائی اجزا پائے جاتے ہیں- کلیجی میں آئرن، بی 12، وٹامن اے اور کاپر بھی مقدار میں پایا جاتا ہے- تاہم کلیجی کو بھی زیادہ کھانا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے- کلیجی میں پایا جانے والا وٹامن اے چربی گھلانے کی صلاحیت رکھتا ہے- اس کا مطلب ہے کہ یہ جسم محفوظ ہوجاتا ہے- لیکن جسم میں اس کی زیادہ مقدار کی موجودگی ایک زہر کی صورت اختیار کرسکتے ہے- اس سے بینائی کے مسائل، ہڈیوں میں درد، متلی، الٹی اور فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے-


 


Friday, February 5, 2021

سستی لاٹری کے ذریعے امیر کیسے بنا جا سکتا ہے؟ جانیئے لاٹری کی چند قسم اور آزمائیں آپ بھی اپنی قسمت

 


صرف آج کل ہی پیسے کی اہمیت زیادہ نہیں ہے بلکہ پہلے سے ہی لوگوں میں اس بات کا لالچ تھا کہ کسی طرح آنکھیں بند کریں یا رات کو سو جائیں اور صبح اٹھیں تو ہاتھوں میں ڈھیروں پیسے آ جائیں، کچھ انوکھا کارنامہ ہو جائے اور جادو ہو جائے اور پیسہ جلدی سے جمع ہو جائے۔ مگر ایسی کوئی جادوئی اسکیم تو نہ پہلے تھی اور نہ اب لیکن جلدی امیر بننے کے کچھ طریقے ضرور تھے جن میں سے ایک قسمت آزمائی یعنی پرائز بانڈ اور دوسرا لاٹری کا ٹکٹ لگ جانا ہے.

لاٹری :

لاٹری کے بارے میں آپ بھی جانتے ہی ہوں گے کہ ایک ٹکٹ ہوتا ہے اسپر چند نمبر لکھے ہوتے ہیں کوئی مخصوص اپنی مرضی کے نمبر کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر اگر ان میں انعام کوئی بڑا نکل آئے تو واہ واہ ورنہ جناب ٹکٹ کے پیسے بلکل ضائع ہو جاتے ہیں۔

اقسام

لاٹری کی دنیا بھر میں اقسام: لاٹری چونکہ ایک کھیل ہے اور اس میں ہار جیت بھی چلتی رہتی ہے۔ دنیا میں مختلف قسم کی لاٹریاں ہیں۔


 


٭ عام لاٹری:

یہ ایسی لاٹری ہے جس کا ٹکٹ سستا ہوتا ہے اور اس کا انعام بھی کم ہی ہوتا ہے، یہ ہر کوئی کھیل سکتا ہے۔ اس کی سب سے عام مثال وہ کھیل ہے جو اکثر بچے 5 5 روپے میں خریدتے ہیں اور پھر اس کو کھلواتے ہیں جس کے عوض یا تو کوئی معمولی انعام مل جاتا ہے یا پھر پیسوں کی رقم مل جاتی ہے۔

٭ بڑی لاٹری:

یہ لاٹری حکومتی قوانین کے تحت ہوتی ہے، جو کہ دنیا بھر میں امریکی لاٹری تھی جس پر کچھ شرائط و ضوابط بھی تھیں مگر اس کا انعام میگا انعام ہوتا تھا اور آج بھی ہے مگر اب پاکستان میں یہ لاٹری نہیں ملتی۔

٭ ہاؤسنگ اسکیم یا ذاتی لاٹری:

یہ لاٹری دراصل کسی مقصد کے تحت ہوتی ہے یعنی ٹکٹ لیتے وقت ٹکٹ ماسٹر آپ سے چند سوالات پوچھتا ہے اور اس کے بعد آپ کو ٹکٹ مل جاتا ہے اور انعام کھل جاتا ہے، مگر اس میں ہاؤسنگ اسکیم کے تحت کچھ پراپرٹی شرائط بھی لوگو ہوتی ہیں جن کو دیکھتے ہوئے آپ کو انعام کی رقم ملتی ہے۔

٭ سستی لاٹری کا بڑا انعام:

اگر آپ چاہتے ہیں کہ سستی لاٹری سے بڑا انعام بنا سکیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ ایک جیسی 3 لاٹریاں خریدیں اور نمبر ایک ہی لائن میں منتخب نہ کریں اس طرح جلدی ہی ساری لاٹریوں کے اچھے انعام آپ کو مل جائیں گے۔


امرود کے پتوں کی چائے 10 امراض کے علاج میں کیسے مددگار ہے؟ جانیں

  امرود کے پتوں کی چائے 10 امراض کے علاج میں کیسے مددگار ہے؟ جانیں امرود کا شمار ایسے پھلوں میں ہوتا ہے جس کی کم قیمت کے سبب اکثر لوگ اس کے ...